Skip to main content

عمران خان ریپٹلین سائیکوپیتھ

نفسیاتی مریض یا پاگل لفظ 'سائیکوپیتھ' کا درست ترجمہ نہیں۔ بلکہ 'سائیکوپیتھ' عام لوگوں کی نسبت ذہنی طور پر زیادہ چاک و چوبند ہوسکتے ہیں۔ ان کو 'ہیومن پریڈیٹرز' بھی کہا جاتا ہے۔ 'ہیومن پریڈیٹرز' یعنی یہ انسانوں کی جان، مال حتی کہ ان کے احساسات اور جذبات کا بھی شکار کرتے ہیں۔  وہ یہ سب یہ کیسے کر لیتے ہیں اور میں نے عنوان میں عمران خان کا نام کیوں لکھا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ 'سائیکوپیتھ' میں دوسرے انسانوں سے الگ کچھ صفات ہوتی ہیں جو ان کو قدرتی شکاری بناتی ہیں۔ انکی یہ صفات دنیا بھر کے ماہرین نے برسوں کی تحقیق اور محنت کے بعد جمع کی ہیں اور حیرت انگیز طور پر وہ تقریباً ساری عمران خان میں پائی جاتی ہیں۔  سائیکوپیتھس کو 'ریپٹلینز' بھی کہا جاتا ہے۔ کیونکہ انکی کچھ عادتیں ریپٹلینزجیسی ہوتی ہیں۔ ریپٹلینز کے بارے میں قرآن اور سائنس نے کچھ آگہی دی ہے اس پر بھی بات کرینگے۔  اگر آپ ایک بار ٹھنڈے دل سے یہ مضمون پڑھ لیں تو شائد آپ عمران خان کی مقبولیت، شخصیت، سوچ اور فیصلوں کو سمجھ لیں۔ بہت سی چیزوں کے بارے میں آپ کی حیرت دور ہوسکتی ہے۔  ریپٹلین سائیک

میمو گیٹ سکینڈل کیا ہے

 مئی 2011ء میں اس وقت کے صدر پاکستان آصف علی زرداری کی جانب سے امریکن ایڈمرل مائکل مولن کے نام ایک خط لکھا گیا جو میمو گیٹ سکینڈل کے نام سے مشہور ہے۔ اس خط میں آصف زرداری نے امریکہ سے پاک فوج اور آئی ایس آئی کے خلاف مدد طلب کی جسکے بدلے امریکہ کو مندرجہ ذیل پیشکشیں کیں۔ 

1۔۔امریکی سفارشات کی روشنی میں اسامہ بن لادن کو پناہ دینے یا اس سے تعلقات رکھنے والے تمام مشتبہ جرنیلوں کے خلاف کاروائی۔ پاک فوج کی تمام سینیر قیادت بشمول چیف جنرل کیانی اور ڈی جی آئی ایس آئی جنرل پاشا کی فوری معطلی۔ 

2۔ امریکہ کی پسندیدہ شخصیات پر مشتمل ایک نئے سول دفاعی ادارے کا قیام جو آئی ایس آئی کو کنٹرول کرے۔ 

3۔ امریکن فورسز کو پاکستان بھر میں کہیں بھی آپریشن کرنے کی اجازت۔ جس میں پاکستان کی سول حکومت ان کی مکمل معاؤنت کرے گی۔ 

4۔ ایمن اظوہری ، ملا عمر اور سراج الدین حقانی کو فوری طور پر امریکہ کے حوالے کرنے کا وعدہ۔

5۔ نیا قائم کیا گیا سول دفاعی ادارہ فوری طور پر آئی ایس آئی کے " سیکشن ایس" کو بند کردے گا جو امریکہ کے خلاف افغان جہاد کو کنٹرول کرتا ہے۔ نیز آئی ایس آئی اور افغان طالبان کے درمیان موجود خفیہ اتحاد توڑ دیا جائیگا۔ 

6۔ ممبئی حملوں میں انڈیا کو مطلوب تمام پاکستانیوں کے خلاف فوری کاروائی اور انڈیا حوالگی کی یقین دہائی بشمول آرمی افسران کے۔

7۔ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی نگرانی کے لیے امریکہ کے ساتھ ایک مشترکہ فریم ورک کے قیام پر آمادگی۔ دوسرے لفظوں میں امریکہ کو پاکستان کے ایٹمی پروگرام تک رسائی کی پیشکش۔ 

اس مراسلے کا انکشاف پاکستانی نژاد بزنسمین منصور اعجاز نے اپنے ایک آرٹیکل میں کیا۔ اس نے دعوی کیا کہ "زرداری حکومت نے پاک فوج کو لگام ڈالنے اور آئی ایس آئی کو ختم کرنے کے لیے امریکی مدد مانگی ہے۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ پاک فوج کو یقین ہوگیا ہے کہ ایبٹ آباد آپریشن آصف زرداری کی ایما پر امریکنز نے کیا اور فوج کسی بھی وقت بغاوت کر سکتی ہے!"

اس مراسلے کا خالق آصف زرداری کا مقرر کردہ پاکستانی سفیر حسین حقانی تھا۔ جس نے یہ مراسلہ آصف زرداری کے حکم پر تیار کیا۔



19 اپریل 2012 کو سپریم کورٹ آف پاکستان میں ایک پیٹیشن دائر کی گئی جس میں حسین حقانی کو بذریعہ انٹر پول واپس پاکستان لانے کی درخواست کی گئی۔ کیونکہ سفیر محترم نے واپس آنے انکار کر دیا تھا۔ حسین حقانی کو واپس لایا گیا اور اس سے استعفی لے کر معاملے کی تحقیقات شروع کر دی گئیں۔ مائکل مولن نے بھی تصدیق کر دی کہ انہیں یہ مراسلہ ملا تھا۔

افتخار چودھری کی سربراہی میں سپریم کورٹ نے خود معاملے کی تحقیقات کیں اور 12 جون کو اپنا فیصلہ سنایا کہ " مراسلہ حقیقت تھا اور اس کا خالق حسین حقانی تھا جو ملک کے مفادات سے غداری کا مرتکب ہوا۔ حقانی کو سفیر مقرر کرنا زرداری کی غلطی تھی۔ "

لیکن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔  🙂

لیکن اس وقت کی سپریم کورٹ نے دو کمالات دکھائے۔ 

پہلا یہ کہ مذکورہ فیصلہ سنانے سے 15 دن قبل حسین حقانی کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے لیے ایک سخت حکم جاری کیا اور اس کو باہر جانے کی اجازت دے دی۔ 

حسین حقانی نے امریکہ پہنچتے ہی پاکستان کے خلاف دوبارہ زہر اگلنا شروع کر دیا اور یہ سلسلہ تاحال جاری ہے۔

دوسرا کمال یہ دکھایا کہ جن شواہد کی بنیاد پر حسین حقانی کو غداری کا مجرم قرار دیا تھا عین انہی شواہد پر آصف زرداری کا معاملہ گول کر کے اس کو صاف بچا لیا۔

حسین حقانی کی وکیل عاصمہ جہانگیر تھیں۔ وہ مسلسل عدالت کے ججوں پر جانبداری کے الزامات لگاتی رہیں لیکن اس کے خلاف توہین عدالت کی کوئی کاروائی نہیں ہوئی۔ آصف زرداری نے عدالت میں جواب تک داخل نہیں کروایا، سپریم کورٹ پر سخت تنقید کی اور مراسلے کو محض کاغذ کا ایک ٹکڑا قرار دیا۔

کئی بار کیس کی سماعت ہوئی لیکن ملزم کی غیرموجودگی کو جواز بنا کر کیس کو آگے نہیں بڑھایا گیا کہ "ہم غداری کے کیس کا فیصلہ کیسے سنا سکتے ہیں جب کہ ملزم موجود نہیں؟"

(شائد ویسے جیسے پرویزمشرف کے خلاف سنایا)

اس کے بعد چند دن پہلے جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے میمو گیٹ سکینڈل کیس "نمٹانے" کی قوم کو خوشخبری سنا دی۔

فیصلہ یہ فرمایا کہ "حسین حقانی کی گرفتاری یا حوالگی ریاست کا معاملہ ہے، سپریم کورٹ کا کیس سے فی کوئی تعلق نہیں رہا اور یہ کیس ختم کیا جاتا ہے۔"

اس عظیم الشان فیصلے کے ساتھ آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس بھی دئیے کہ " 8 سال سے زیر التوا کیس پر  ہم کیوں اپنا وقت ضائع کریں اور یہ کہ مملکت خداداد پاکستان اتنی کمزور نہیں کہ ایک میمو سے لڑ کھڑا جائے۔"

اللہ اللہ خیر سلا!!!

جس وقت موصوف یہ فیصلہ سنا رہے تھے اس سے صرف چند دن پہلے امریکہ میں ان کی نوکری پکی ہوچکی تھی جو اس نے ریٹائرمنٹ کے فوراً بعد جوائن کر لی۔ 

ہے نا عجیب اتفاق؟؟

سوالات بہت سے رہ گئے!!

مثلاً ۔۔۔۔

اگر سپریم کورٹ مان گئی کہ میمو سچ ہے اور اس کا خالق حسین حقانی ہے تو حسین حقانی کو غدار قرار کیوں نہیں دیا؟؟

پاکستان میں بغاوت پر آمادہ چند کرپٹ ججوں کو کام سے روک لینے پر سابق سپاہ سالار اور پاکستان کے ہیرو پرویز مشرف کو غدار قرار دیتے ہوئے سزائے موت کا فیصلہ سنایا جاتا ہے بلکہ تین دن تک لٹکانے کا۔ 

لیکن وہ غداری جس میں ریاست کی سلامتی پر حملہ کرنے کی کوشش کی گئی جس کا اعتراف خود سپریم کورٹ کر چکی ہے، اس پر کوئی سزا نہیں، کیوں؟؟؟

یہی سکینڈل اس بات کا انکشاف کرنے والا تھا کہ درحقیقت پاکستان کے اندر امریکی حملے میں معاؤنت کس نے کی تھی۔ کیا وہ بھی غداری نہیں تھی؟؟

اگر میمو گیٹ سکینڈل  سے ریاست نہیں لڑکھڑاتی تو کرپٹ ججوں کو معطل کرنے سے کیسے لڑکھڑا سکتی ہے؟؟

اگر عدلیہ کا اس معاملے سے کوئی لینا دینا نہیں تب  حوکمتی معاملات میں زبردستی مداخلت کر کے حسین حقانی کو بھگایا کیوں؟؟

پاکستان میں ریاست سے غداریاں کرنے والوں کو کب سزائیں ملیں گی؟ (آئین نہیں ریاست)

پاکستان کی قومی سلامتی پر حملہ آور ہر شخص کو عدلیہ سے ہمیشہ ریلیف کیوں مل جاتا ہے یا واقعی عدلیہ ریاست کے خلاف جنگ لڑ رہی ہے؟؟

تحریر شاہد خان

Comments

Popular posts from this blog

عمران خان ریپٹلین سائیکوپیتھ

نفسیاتی مریض یا پاگل لفظ 'سائیکوپیتھ' کا درست ترجمہ نہیں۔ بلکہ 'سائیکوپیتھ' عام لوگوں کی نسبت ذہنی طور پر زیادہ چاک و چوبند ہوسکتے ہیں۔ ان کو 'ہیومن پریڈیٹرز' بھی کہا جاتا ہے۔ 'ہیومن پریڈیٹرز' یعنی یہ انسانوں کی جان، مال حتی کہ ان کے احساسات اور جذبات کا بھی شکار کرتے ہیں۔  وہ یہ سب یہ کیسے کر لیتے ہیں اور میں نے عنوان میں عمران خان کا نام کیوں لکھا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ 'سائیکوپیتھ' میں دوسرے انسانوں سے الگ کچھ صفات ہوتی ہیں جو ان کو قدرتی شکاری بناتی ہیں۔ انکی یہ صفات دنیا بھر کے ماہرین نے برسوں کی تحقیق اور محنت کے بعد جمع کی ہیں اور حیرت انگیز طور پر وہ تقریباً ساری عمران خان میں پائی جاتی ہیں۔  سائیکوپیتھس کو 'ریپٹلینز' بھی کہا جاتا ہے۔ کیونکہ انکی کچھ عادتیں ریپٹلینزجیسی ہوتی ہیں۔ ریپٹلینز کے بارے میں قرآن اور سائنس نے کچھ آگہی دی ہے اس پر بھی بات کرینگے۔  اگر آپ ایک بار ٹھنڈے دل سے یہ مضمون پڑھ لیں تو شائد آپ عمران خان کی مقبولیت، شخصیت، سوچ اور فیصلوں کو سمجھ لیں۔ بہت سی چیزوں کے بارے میں آپ کی حیرت دور ہوسکتی ہے۔  ریپٹلین سائیک

دریائے فرات کا خشک ہونا

 دریائے فرات کے کناروں سے انسانی تہذیب نے جنم لیا۔ ذراعت، لکھائی، پہیہ اور قانون یہ چار چیزیں یہیں ایجاد ہوئیں۔ شراب، موسیقی اور شاعری نے بھی یہاں سے جنم لیا۔ پہلی بار وقت کو سال، مہینوں اور دن کو چوبیس گھنٹوں میں یہیں تقسیم کیا گیا۔  دریائے فرات کی حالیہ تصاویر خوفناک ہیں۔ وہ تیزی سے خشک ہورہا ہے۔ توراۃ مقدس کے مطابق دریائے فرات کا خشک ہونا انسانوں کی تباہی کی پہلی علامت ہوگی۔ خالق حقیقی انسانوں کا خاتمہ کرنے سے پہلے اس عظیم دریا کو خشک دے گا جہاں سے یہ انسان پھلے پھولے۔  ایک اندازے کے مطابق دریائے فرات آدھا خشک ہوچکا ہے۔ اسکے پانی پر انحصار کرنے والے لوگ بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ قریب کی بہت سی زمینیں بنجر ہوگئی ہیں۔  بائبل میں لکھا ہے کہ " چھٹے فرشتے نے اپنا پیالہ دریائے فرات پر ڈالا، جس سے اسکا پانی خشک ہوگیا اور مشرق سے بادشاہوں کی آمد کا راستہ کھل گیا۔" بائبل کے مطابق انسانوں کا خاتمہ ہونے سے پہلے ایک عظیم جنگ ہوگی اور وہ جنگ شروع ہونے سے پہلے دریائے فرات خشک ہوجائیگا۔ مشرق سے آنے والے یہ بادشاہ اس عظیم جنگ میں حصہ لینگے۔ (خشک ہونے سے مراد یہ بھی ہوتی ہے کہ دریا اپنا بیشت