Skip to main content

عمران خان ریپٹلین سائیکوپیتھ

نفسیاتی مریض یا پاگل لفظ 'سائیکوپیتھ' کا درست ترجمہ نہیں۔ بلکہ 'سائیکوپیتھ' عام لوگوں کی نسبت ذہنی طور پر زیادہ چاک و چوبند ہوسکتے ہیں۔ ان کو 'ہیومن پریڈیٹرز' بھی کہا جاتا ہے۔ 'ہیومن پریڈیٹرز' یعنی یہ انسانوں کی جان، مال حتی کہ ان کے احساسات اور جذبات کا بھی شکار کرتے ہیں۔  وہ یہ سب یہ کیسے کر لیتے ہیں اور میں نے عنوان میں عمران خان کا نام کیوں لکھا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ 'سائیکوپیتھ' میں دوسرے انسانوں سے الگ کچھ صفات ہوتی ہیں جو ان کو قدرتی شکاری بناتی ہیں۔ انکی یہ صفات دنیا بھر کے ماہرین نے برسوں کی تحقیق اور محنت کے بعد جمع کی ہیں اور حیرت انگیز طور پر وہ تقریباً ساری عمران خان میں پائی جاتی ہیں۔  سائیکوپیتھس کو 'ریپٹلینز' بھی کہا جاتا ہے۔ کیونکہ انکی کچھ عادتیں ریپٹلینزجیسی ہوتی ہیں۔ ریپٹلینز کے بارے میں قرآن اور سائنس نے کچھ آگہی دی ہے اس پر بھی بات کرینگے۔  اگر آپ ایک بار ٹھنڈے دل سے یہ مضمون پڑھ لیں تو شائد آپ عمران خان کی مقبولیت، شخصیت، سوچ اور فیصلوں کو سمجھ لیں۔ بہت سی چیزوں کے بارے میں آپ کی حیرت دور ہوسکتی ہے۔  ریپٹلین سائیک

آپریشن عزم استحکام

 آپریشن عزم استحکام 

پی ٹی آئی سے جب کہا جائے کہ کے پی میں گیارہ سال سے تمہاری حکومت ہے دہشتگردی ختم کیوں نہیں ہورہی تو پی ٹی آئی کہتی ہے کہ دہشتگردوں سے لڑنا تو فوج کا کام ہے۔ پھر جب فوج دہشتگردوں سے لڑنے کا فیصلہ کرے تو پی ٹی آئی کہتی ہے کہ فوج کا کام تو سرحدوں پر کھڑا ہونا ہے۔ ہم دہشتگردوں کے خلاف کسی بھی آپریشن کی مخالفت کرینگے۔ 

یہ پی ٹی آئی کی کونسی پالیسی ہے بھائی؟ آخر چاہتے کیا ہو؟

عمران خان کی حکومت میں دو چیزوں کی تباہی ہوئی تھی۔ ایک معیشت کی اور دوسری امن کی۔ ضرب عضب کے بعد ملک میں کافی سکون ہوگیا تھا۔ پھر عمران خان نے ضرب عضب سے بھاگے ہوئے دہشتگردوں کو سرنڈر کروائے بغیر ملک میں واپس لانے کا فیصلہ کیا اور ہزاروں کی تعداد میں واپس لے آیا۔ ساتھ ہی سینکڑوں خطرناک دہشتگردوں کو جیلوں سے رہا کرنے کا حکم دیا۔ جس کے بعد انہوں نے کے پی میں وہی آگ لگا دی جو ضرب عضب سے پہلے تھی۔ 




موجودہ حکومت کسی نہ کسی طرح معاشی استحکام حاصل کرنے میں کامیاب ہوچکی ہے۔ سب سے بڑا کارنامہ یہ کیا کہ سعودی عرب، یو اے ای اور چین کو بہت بڑی سرمایہ کاری پر آمادہ کر لیا۔ لیکن کوئی ملک کسی ایسے ملک میں سرمایہ کاری نہیں کرے گا جہاں آئے روز دہشتگردانہ حملے ہو رہے ہوں۔ 

لہذا امن و آمان بحال کرنے کے لیے عزم استحکام کے نام ایک کثیر جہتی آپریشن کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔  آپریشن عزم استحکام محض جنگ کا نام نہیں بلکہ یہ ایک لائحہ عمل کا نام ہے جس کا مقصد ہر ممکن طریقے سے ملک میں استحکام لانا ہے۔ 

فوجی آپریشنز عزم استحکام کا محض ایک حصہ ہونگے۔ ان کے علاوہ خارجہ محاذ پر دہشتگردوں روکنے کے لیے جو اقدامات کیے جاسکتے ہیں وہ کیے جائنگے۔ دہشتگردوں کو سزائیں دلوانے کے لیے مطلوبہ قانون سازی کی جائیگی اور ان کمزوریوں کو دور کیا جائیگا جن کی وجہ سے دہشتگردوں کو ہمیشہ عدالتوں سے ریلیف مل جاتا ہے۔ سوشل میڈیا پر دہشتگرد جو ذہن سازی مہم چلاتے ہیں اس کو روکا جائیگا۔ 



یوں آپریشن عزم استحکام کئی جہتوں پہ کام کرے گا۔ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ پی ٹی آئی کو اس میں اعتراض کس چیز پر ہے؟ ویسے علی امین گنڈا پور نے میٹنگ میں شرکت کی اور مکمل تعاون کا یقین دلایا۔ اس کو کوئی اعتراض ہوتا تو وہ میٹنگ کے بعد اس حوالے سے میڈیا سے بات کر کے اپنے تحفظات کا اظہار ضرور کرتا۔ 

امید ہے کہ پاکستان میں دہشتگردی کے خلاف آپریشن عزم استحکام فیصلہ کن ثابت ہوگا۔ جو لوگ اس کی مخالفت کر رہے ہیں انہیں نہ پاکستان سے کوئی ہمدردی ہے نہ ان لوگوں سے جو دہشتگردوں کا نشانہ بن رہے ہیں۔ 

تحریر شاہد خان

Comments

Popular posts from this blog

عمران خان ریپٹلین سائیکوپیتھ

نفسیاتی مریض یا پاگل لفظ 'سائیکوپیتھ' کا درست ترجمہ نہیں۔ بلکہ 'سائیکوپیتھ' عام لوگوں کی نسبت ذہنی طور پر زیادہ چاک و چوبند ہوسکتے ہیں۔ ان کو 'ہیومن پریڈیٹرز' بھی کہا جاتا ہے۔ 'ہیومن پریڈیٹرز' یعنی یہ انسانوں کی جان، مال حتی کہ ان کے احساسات اور جذبات کا بھی شکار کرتے ہیں۔  وہ یہ سب یہ کیسے کر لیتے ہیں اور میں نے عنوان میں عمران خان کا نام کیوں لکھا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ 'سائیکوپیتھ' میں دوسرے انسانوں سے الگ کچھ صفات ہوتی ہیں جو ان کو قدرتی شکاری بناتی ہیں۔ انکی یہ صفات دنیا بھر کے ماہرین نے برسوں کی تحقیق اور محنت کے بعد جمع کی ہیں اور حیرت انگیز طور پر وہ تقریباً ساری عمران خان میں پائی جاتی ہیں۔  سائیکوپیتھس کو 'ریپٹلینز' بھی کہا جاتا ہے۔ کیونکہ انکی کچھ عادتیں ریپٹلینزجیسی ہوتی ہیں۔ ریپٹلینز کے بارے میں قرآن اور سائنس نے کچھ آگہی دی ہے اس پر بھی بات کرینگے۔  اگر آپ ایک بار ٹھنڈے دل سے یہ مضمون پڑھ لیں تو شائد آپ عمران خان کی مقبولیت، شخصیت، سوچ اور فیصلوں کو سمجھ لیں۔ بہت سی چیزوں کے بارے میں آپ کی حیرت دور ہوسکتی ہے۔  ریپٹلین سائیک

دریائے فرات کا خشک ہونا

 دریائے فرات کے کناروں سے انسانی تہذیب نے جنم لیا۔ ذراعت، لکھائی، پہیہ اور قانون یہ چار چیزیں یہیں ایجاد ہوئیں۔ شراب، موسیقی اور شاعری نے بھی یہاں سے جنم لیا۔ پہلی بار وقت کو سال، مہینوں اور دن کو چوبیس گھنٹوں میں یہیں تقسیم کیا گیا۔  دریائے فرات کی حالیہ تصاویر خوفناک ہیں۔ وہ تیزی سے خشک ہورہا ہے۔ توراۃ مقدس کے مطابق دریائے فرات کا خشک ہونا انسانوں کی تباہی کی پہلی علامت ہوگی۔ خالق حقیقی انسانوں کا خاتمہ کرنے سے پہلے اس عظیم دریا کو خشک دے گا جہاں سے یہ انسان پھلے پھولے۔  ایک اندازے کے مطابق دریائے فرات آدھا خشک ہوچکا ہے۔ اسکے پانی پر انحصار کرنے والے لوگ بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ قریب کی بہت سی زمینیں بنجر ہوگئی ہیں۔  بائبل میں لکھا ہے کہ " چھٹے فرشتے نے اپنا پیالہ دریائے فرات پر ڈالا، جس سے اسکا پانی خشک ہوگیا اور مشرق سے بادشاہوں کی آمد کا راستہ کھل گیا۔" بائبل کے مطابق انسانوں کا خاتمہ ہونے سے پہلے ایک عظیم جنگ ہوگی اور وہ جنگ شروع ہونے سے پہلے دریائے فرات خشک ہوجائیگا۔ مشرق سے آنے والے یہ بادشاہ اس عظیم جنگ میں حصہ لینگے۔ (خشک ہونے سے مراد یہ بھی ہوتی ہے کہ دریا اپنا بیشت

میمو گیٹ سکینڈل کیا ہے

 مئی 2011ء میں اس وقت کے صدر پاکستان آصف علی زرداری کی جانب سے امریکن ایڈمرل مائکل مولن کے نام ایک خط لکھا گیا جو میمو گیٹ سکینڈل کے نام سے مشہور ہے۔ اس خط میں آصف زرداری نے امریکہ سے پاک فوج اور آئی ایس آئی کے خلاف مدد طلب کی جسکے بدلے امریکہ کو مندرجہ ذیل پیشکشیں کیں۔  1۔۔امریکی سفارشات کی روشنی میں اسامہ بن لادن کو پناہ دینے یا اس سے تعلقات رکھنے والے تمام مشتبہ جرنیلوں کے خلاف کاروائی۔ پاک فوج کی تمام سینیر قیادت بشمول چیف جنرل کیانی اور ڈی جی آئی ایس آئی جنرل پاشا کی فوری معطلی۔  2۔ امریکہ کی پسندیدہ شخصیات پر مشتمل ایک نئے سول دفاعی ادارے کا قیام جو آئی ایس آئی کو کنٹرول کرے۔  3۔ امریکن فورسز کو پاکستان بھر میں کہیں بھی آپریشن کرنے کی اجازت۔ جس میں پاکستان کی سول حکومت ان کی مکمل معاؤنت کرے گی۔  4۔ ایمن اظوہری ، ملا عمر اور سراج الدین حقانی کو فوری طور پر امریکہ کے حوالے کرنے کا وعدہ۔ 5۔ نیا قائم کیا گیا سول دفاعی ادارہ فوری طور پر آئی ایس آئی کے " سیکشن ایس" کو بند کردے گا جو امریکہ کے خلاف افغان جہاد کو کنٹرول کرتا ہے۔ نیز آئی ایس آئی اور افغان طالبان کے درمیان موجود