Skip to main content

عمران خان ریپٹلین سائیکوپیتھ

نفسیاتی مریض یا پاگل لفظ 'سائیکوپیتھ' کا درست ترجمہ نہیں۔ بلکہ 'سائیکوپیتھ' عام لوگوں کی نسبت ذہنی طور پر زیادہ چاک و چوبند ہوسکتے ہیں۔ ان کو 'ہیومن پریڈیٹرز' بھی کہا جاتا ہے۔ 'ہیومن پریڈیٹرز' یعنی یہ انسانوں کی جان، مال حتی کہ ان کے احساسات اور جذبات کا بھی شکار کرتے ہیں۔  وہ یہ سب یہ کیسے کر لیتے ہیں اور میں نے عنوان میں عمران خان کا نام کیوں لکھا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ 'سائیکوپیتھ' میں دوسرے انسانوں سے الگ کچھ صفات ہوتی ہیں جو ان کو قدرتی شکاری بناتی ہیں۔ انکی یہ صفات دنیا بھر کے ماہرین نے برسوں کی تحقیق اور محنت کے بعد جمع کی ہیں اور حیرت انگیز طور پر وہ تقریباً ساری عمران خان میں پائی جاتی ہیں۔  سائیکوپیتھس کو 'ریپٹلینز' بھی کہا جاتا ہے۔ کیونکہ انکی کچھ عادتیں ریپٹلینزجیسی ہوتی ہیں۔ ریپٹلینز کے بارے میں قرآن اور سائنس نے کچھ آگہی دی ہے اس پر بھی بات کرینگے۔  اگر آپ ایک بار ٹھنڈے دل سے یہ مضمون پڑھ لیں تو شائد آپ عمران خان کی مقبولیت، شخصیت، سوچ اور فیصلوں کو سمجھ لیں۔ بہت سی چیزوں کے بارے میں آپ کی حیرت دور ہوسکتی ہے۔  ریپٹلین سائیک

آصف زرداری، نواز شریف اور عمران خان میں سے کون زیادہ کرپٹ تھا؟


آصف زرداری، نواز شریف اور عمران خان میں سے کون زیادہ کرپٹ تھا؟

ہم ان کیسز پر بھی بات کرینگے جن میں ملزم بری ہوچکے ہیں یہ گمان کر کے کہ پاکستان کے کرپٹ جج خرید لیے گئے ہونگے۔ نیز ہم ساری کرپشن کو ملین ڈالرز میں بیان کرینگے۔ (ایک ملین ڈالر آج کے تقریباً 28 کروڑ روپے بنتے ہیں)

نواز شریف 

مے مئیر کے علاقے میں ایون فیلڈ اپارٹمنٹس (1 ملین ڈالر)

یہ اپارٹمنٹس جس وقت خریدے گئے اس وقت انکی مالیت 1 ملین ڈالر سے بھی کم تھی۔ اب شائد ایک اپارٹمنٹ 10 ملین ڈالر کا ہو۔ لیکن کیس یہ تھا کہ اس وقت جب خریدے گئے 1 ملین ڈالر کی رقم کہاں سے آئی تھی؟ (اس کیس میں نواز شریف بری ہوچکے ہیں)

العزیزیہ سٹیل مل اور ہل میٹل ریفرنس (11 ملین ڈالر)

یہ حسین نواز نے 2001 اور 2005 میں بنائی تھیں۔ العزیزیہ سٹیل مل 6 ملین ڈالر اور ہل میٹل 5 ملین ڈالر کی تھی۔ اس پر بھی مے فئیر فلیٹس والا کیس ہی بنا تھا کہ یہ 11 ملین ڈالر کہاں سے آئے؟ (اس کیس میں نواز شریف بری ہوچکے ہیں)

ہیلی کاپٹر کیس اور توشہ خان گاڑی کیس (1 ملین ڈالر)

نواز شریف پر کیس بنا تھا کہ وہ ہیلی کاپٹر کے مالک ہیں جو اس نے گوشواروں میں ظاہر نہیں کیا۔ نواز شریف نے کاغذات پیش کیے کہ ہیلی کاپٹر کرایہ پر حاصل کیا گیا تھا میرا نہیں تھا۔ کیس ختم ہوگیا لیکن ہم اس کو شامل کرتے ہیں۔ اسی طرح نواز شریف پر دوسرا کیس عمران خان نے بنوایا تھا کہ انہوں نے توشہ خانہ سے کم قیمت پر ایک گاڑی خریدی۔ یہ گاڑی اپنی دوسری حکومت میں ملی تھی اور پھر مشرف دور کے بعد جو پیپلز پارٹی کی حکومت بنی تو اس گاڑی کو نواز شریف کو بیچا گیا جو 11 سال استعمال ہوکر کافی کھٹارا ہوچکی تھی۔ کیس ختم ہوچکا ہے لیکن اس کو ہیلی کاپٹر سمیت ہم 1 ملین ڈالر کا مان لیتے ہیں۔ 

جاتی امراء کرپشن کیس (2 ملین ڈالر)

نواز شریف پر الزام تھا کہ انہوں نے 1998میں بطور وزیر اعظم اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے اپنے ذاتی گھر جاتی امراء روڈ کی تعمیر سے قومی خزانے کو 12 کروڑ 56 لاکھ روپے کا نقصان پہنچایا۔ جو اس وقت کے حساب سے 2 ملین ڈالر رقم بنتی ہے۔ 

تو ہمارے پاس نواز شریف کا مجموعی طور پر 15 ملین ڈالر کرپشن کا ریکارڈ آرہا ہے۔ 

آصف زرداری

جعلی اکاؤنٹس کیس (230 ملین ڈالر)

یہ کم و بیش اس وقت کے حساب سے 230 ملین ڈالر کی رقوم مختلف جعلی اکاؤنٹس میں ٹرانسفر ہوئیں جو تحقیقاتی اداروں کے مطابق آصف زردای اور اسکی بہن فریال تالپور کے تھے اور یہ رقوم انہوں نے کک بیکس اور دیگر بدعنوانیوں کے ذریعے حاصل کی تھی۔ 

سوئس اکاؤنٹس کیس (13 ملین ڈالر)

پاکستانی تحقیقاتی اداروں نے ایسے سوئس اکاؤنٹس کا سراغ لگایا جن میں مجموعی طور پر 13 ملین ڈالر کے مساوی رقوم جمع تھیں اور یہ اکاؤنٹس آصف زردی اور بےنظیر بھٹو کے تھے۔ 

سرے محل کیس (13 ملین ڈالر)

برطانیہ سرے کاؤنٹی میں یہ پراپرٹی آصف زرداری اور بےنظیر بھٹو کی ملکیت مانی جاتی تھی اور پھر 2004 میں آصف زرداری نے اسکی ملکیت تسلیم بھی کی۔ اس کی قیمت کا اندازہ اس وقت 1 کروڑ پاؤنڈ یا آج کے حساب سے تقریباً 13 ملین ڈالر لگایا گیا تھا۔ 

کوٹنیکا کیس (60 ملین ڈالر)

کوٹنیکا ایک سوئس کمپنی تھی۔ آصف زرداری اور بےنظیر پر الزام تھا کہ انہوں نے اس کمپنی سے تقریباً 60 ملین ڈالر کک بیکس وصول کیں۔ پھر اس رقم کو مختلف اثاثوں میں تبدیل کیا۔ 

پارک لین ریفرنس (28 ملین ڈالر)

آصف زردای پر الزام تھا کہ اس نے کہ انھوں نے پارک لین اسٹیٹ نامی اپنی نجی کمپنی کے ذریعے سنہ 2009 میں 2460 کنال زمین جس کی اصل مالیت دو ارب روپے سے زیادہ ہے اسے صرف 6 کروڑ 20 لاکھ روپے میں خریدا ہے۔ یہ رقم اس وقت کے حساب سے تقریبا 28 ملین ڈالر بنتی ہے۔ 

یوں آصف زرداری کا ہمارے پاس کل 344 ملین ڈالر کرپشن کا ریکارڈ آرہا ہے۔ 

عمران خان

القادر ٹرسٹ کیس (243 ملین ڈالر)

اس کیس میں عمران خان پر الزام ہے کہ انہوں نے ملک ریاض کے ساتھ ملکر قومی خزانے کو 243 ملین ڈالر کا نقصان پہنچایا اور ملک ریاض سے ضبط شدہ بلیک منی انکو واپس کر کے انکی طرف سے بطور جرمانہ ایک اور کیس میں جمع کروا دی اور  ان سے ایک جعلی ٹرسٹ کے نام پر سینکڑوں ایکڑ زمین اور قیمتی جواہرات وصول کیے۔ 

توشہ خانہ کیس (41 ملین ڈالر)

عمران خان پر الزام ہے کہ اس نے توشہ خانہ میں تحائف غیر قانونی طریقے سے  اور مقررہ قیمت ادا کیے بغیر حاصل کیے۔ مختلف رپورٹس کے مطابق حاصل کیے گئے تحائف کی مجموعی مالیت 6 تا 7 ارب روپے یا اس وقت کے حساب سے 41 ملین ڈالر کے آس پاس تھی جو عمران خان نے تقریباً 2 کروڑ روپے کے عوض حاصل کیے۔ یہ ادائیگی بھی تحفے بیچنے کے بعد کی گئی۔ 

ممنوعہ فنڈنگ کیس (3 ملین ڈالر)

ارشد شریف مرحوم نے ایک پروگرام میں دستاویزی ثبوت پیش کیے کہ عمران خان نے اسرائیل اور انڈیا سے مجموعی طور پر تقریباً 3 ملین ڈالر کی ممنوعہ فنڈنگ وصول کی۔ 

3 بلین ڈالر سکینڈل (3000 ملین ڈالر)

اس کو پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا کرپشن سکینڈل کہا جاسکتا ہے۔ لیکن چونکہ اس میں ملک کے 600 بڑے تاجر ملوث ہیں لہذا اس پر کہیں کوئی بات نہیں کی جاتی۔ عین اس وقت جب پاکستان دنیا بھر سےقرضے لے رہا تھا عمران خان نے اپنے حامی 600 تاجروں میں 3 ارب ڈالر یا 3000 ملین ڈالر بغیر سود کے بانٹ دئیے۔ وہ ساری رقم وہ تاجر ڈکار گئے۔ بلکہ کچھ ایسی شرائط بھی رکھی گئیں کہ ان تاجروں کے نام بھی سامنے نہیں آرہے۔ غریب عوام کی یہ رقم غائب ہوگئی اور اس میں سے کچھ بھی واپس نہیں ملا۔ چند صحافیوں نے انکشافات کیے کہ رقم کا بڑا حصہ پاکستان سے باہر اپنے فرنٹ مینوں (فرح گوگی اور مریم وٹو وغیرہ) کے ذریعے یا پارٹی فنڈنگ کے نام پر یا لابنگ فرمز کو ادائیگیوں کی شکل میں واپس وصول کیا گیا۔ 

بی آر ٹی کرپشن (28 ملین ڈالر)

آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے بی آر ٹی پشاور میں 4 ارب 72 کروڑ روپے کرپشن کا انکشاف کیا۔ یہ رقم اس وقت کے حساب سے تقریباً 28 ملین ڈالر بنتی ہے۔ 

رنگ روڈ سکینڈل (50 ملین ڈالر)

اسلام آباد اور راولپنڈی کے گرد رنگ روڈ کا منصوبہ 2017ء میں بنا۔ پی ٹی آئی حکومت آئی تو 11 سوسائیٹیوں نے عمران خان حکومت کو مجموعی طور پر 8 ارب روپے یا اس وقت کے حساب سے تقریباً 50 ملین ڈالر رشوت کے عوض اس منصوبے میں تبدیلی کروائی اور روڈ کو اپنی سوسائیٹیز کے ساتھ ٹچ کرایا۔ یہ اتنا بڑا سکینڈل بنا تھا کہ زلفی بخاری کو استعفی دینا پڑا تھا۔ مرحوم ارشد شریف نے انکشاف کیا تھا کہ زلفی بخاری عمران خان کا فرنٹ مین ہے اور عمران خان کے خفیہ اکاؤنٹس چلاتا ہے۔

نواں کوٹ کرپشن (38 ملین ڈالر)

عمران خان جب وزیراعظم بنے تو انکی بہن عظمی خان نے انکو استعمال کرتے ہوئے نواں کوٹ میں 5216 کنال اراضی جس کی کم سے کم مالیت بھی 6 ارب روپے تھی محض 13 کروڑ میں حاصل کی۔ یہ رقم اس وقت کے حساب سے تقریبا 38 ملین ڈالر بنتی ہے۔ 

علیمہ خان کرپشن (معلوم 3 ملین ڈالر)

عمران خان کا دعوی تھا کہ وہ اور اس کی بہنوں کے پاس والدہ کی علاج کے پیسے نہ تھے۔ لیکن پھر جب شوکت خانم کے لیے چندہ جمع کرنا شروع کیا تو کچھ ہی عرصہ بعد علیمہ خان نے پاکستان سے باہر کئی ملین ڈالر کی جائدادیں خرید لیں۔ ان میں امریکہ اور دبئی میں خریدی گئی جائدادوں کی قیمت کم از کم 3 ملین ڈالر ہے۔ علیمہ خان کا دعوی ہے کہ اس نے سلائی مشینوں کے ذریعے کڑھائی کروا کر یہ دولت کمائی۔ تاہم اس طرح اچانک اس کمائی پر بہت سوالات اٹھتے ہیں۔ 

شوکت خانم کرپشن (نامعلوم)

شوکت خانم کے لیے عمران خان کے بقول سالانہ 8 تا 9 ارب روپے یا 25 ملین ڈالر سالانہ چندہ جمع ہوتا ہے۔ لیکن 220 بیڈ کے اس ہسپتال میں ان 8 یا 9 ارب روپے میں کتنی رقم مریضوں پر لگتی ہے یہ ابھی تک ایک معمہ ہے کیونکہ مریضوں کی بڑی تعداد سے کافی بھاری فیسیں بھی وصول کی جاتی ہیں۔ عمران خان شوکت خانم ہسپتال کا آڈٹ کبھی نہیں ہونے دیتا۔ 

بنی گالہ پراپرٹی (1 ملین ڈالر)

300 کنال پر محیط بنی گالہ کی موجودہ مالیت تقریباً 30 ارب روپے یا 100 ملین ڈالر سے اوپر ہے۔ تاہم یہ 1 ملین ڈالر کے عوض خریدی گئی۔ عمران خان اس کے حوالے سے ہر انٹرویو میں ایک مختلف موقف پیش کرتے رہے۔ کبھی کہتے میں نے خود خریدی اور کبھی کہتے جمائما نے تحفہ میں دی۔ یہ ریڈ زون میں تھی جہاں تعمیر غیر قانونی تھی۔ جب عمران خان کی حکومت بنی تو اس نے سی ڈی اے پر دباؤ ڈلوا کر محض 20 لاکھ روپے ادائیگی کر کے 30 روپے مالیت کے اس گھر کو لیگلائز کروا لیا۔ 

فرح گوگی کرپشن (82 ملین ڈالر)

عمران خان اور بشری بی بی کی فرنٹ مین فرح گوگی اور ان کے شوہر کے مختلف اکاؤنٹس میں 14 ارب روپے یا کم و بیش اس وقت کے حساب سے 82 ملین ڈالر رقم موجودگی کا انکشاف ہوا۔ عمران خان نے ٹی وی پر آکر فرح گوگی کی صفائی پیش کی کہ ان کے پاس پبلک آفس نہیں تو ان سے سوال نہیں بنتا ہے کہ زائد دولت کہاں سے آئی؟ عمران خان نے ایمسنٹی سکیم بھی جاری کی بلیک منی کو وائٹ کرنے جس سے فرح گوگی اور علیمہ خان نے کافی بڑی بلیک منی وھائٹ کی۔ 

شہرام ترکئی رشوت سکینڈل (3 ملین ڈالر)

پرویز خٹک نے اعتراف کیا کہ شہرام ترکئ کے والد لیاقت ترکئ کو سینٹر بنانے کےلئے عمران خان نے ان سے 50 کروڑ کا فنڈ شوکت خانم کے نام پر لیا جو عمران کے ذاتی اکاؤنٹ میں جمع ھوا۔ یہ رقم اس وقت کے حساب سے تقریبا 3 ملین ڈالر بنتی ہے۔ 

ابراج گروپ (2 ملین ڈالر)

عمران خان نے ابراج گروپ کے عارف نقوی سے 2 ملین ڈالر رشوت لی تھی۔ اس کا انکشاف دی کی مین نامی کتاب میں شواہد کے ساتھ کیا گیا ہے۔ 

یوں عمران خان کا ہمارے پاس مجموعی کرپشن کا ریکارڈ 3473 ملین ڈالر بنتا ہے۔ یاد رہے کہ عمران خان کے دور میں تمام عالمی اداروں نے پاکستان میں کرپشن کئی گناہ بڑھ جانے کی نشاندہی کی تھی۔ 

ٹیلی تھون (20 ملین ڈالر)

عمران خان نے سیلاب زدگان کے نام پر 15 ارب روپے جمع کرنے کا دعوی کیا۔ بعد میں کہا 5 ارب روپے جمع ہوئے جو اس وقت کے حساب سے 20 ملین ڈالر بنتے ہیں۔ لیکن ان پیسوں کو کوئی ریکارڈ موجود نہیں کہ سیلاب زدگان تک پہنچے یا نہیں۔ 

خلاصہ 

نواز شریف چار ادوار میں کم و بیش 11 سال اقتدار مجموعی کرپشن چارجز 15 ملین ڈالر

آصف زرداری چار ادوار کم و بیش 10 سال اقتدار مجموعی کرپشن چارجز 344 ملین ڈالر 

عمران خان ایک دور اور تقریبا ساڑھے تین سال اقتدار مجموعی کرپشن چارجز 3514 ملین ڈالر

نوٹ ۔۔ کسی کے پاس ان کے علاوہ ان میں سے کسی پر بھی کرپشن چارجز ہیں جس کے مستند حوالے موجود ہوں وہ شئیر کریں۔ اس مضمون میں ایڈ کر لیے جائنگے۔ 

تحریر شاہد خان


Comments

Popular posts from this blog

عمران خان ریپٹلین سائیکوپیتھ

نفسیاتی مریض یا پاگل لفظ 'سائیکوپیتھ' کا درست ترجمہ نہیں۔ بلکہ 'سائیکوپیتھ' عام لوگوں کی نسبت ذہنی طور پر زیادہ چاک و چوبند ہوسکتے ہیں۔ ان کو 'ہیومن پریڈیٹرز' بھی کہا جاتا ہے۔ 'ہیومن پریڈیٹرز' یعنی یہ انسانوں کی جان، مال حتی کہ ان کے احساسات اور جذبات کا بھی شکار کرتے ہیں۔  وہ یہ سب یہ کیسے کر لیتے ہیں اور میں نے عنوان میں عمران خان کا نام کیوں لکھا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ 'سائیکوپیتھ' میں دوسرے انسانوں سے الگ کچھ صفات ہوتی ہیں جو ان کو قدرتی شکاری بناتی ہیں۔ انکی یہ صفات دنیا بھر کے ماہرین نے برسوں کی تحقیق اور محنت کے بعد جمع کی ہیں اور حیرت انگیز طور پر وہ تقریباً ساری عمران خان میں پائی جاتی ہیں۔  سائیکوپیتھس کو 'ریپٹلینز' بھی کہا جاتا ہے۔ کیونکہ انکی کچھ عادتیں ریپٹلینزجیسی ہوتی ہیں۔ ریپٹلینز کے بارے میں قرآن اور سائنس نے کچھ آگہی دی ہے اس پر بھی بات کرینگے۔  اگر آپ ایک بار ٹھنڈے دل سے یہ مضمون پڑھ لیں تو شائد آپ عمران خان کی مقبولیت، شخصیت، سوچ اور فیصلوں کو سمجھ لیں۔ بہت سی چیزوں کے بارے میں آپ کی حیرت دور ہوسکتی ہے۔  ریپٹلین سائیک

دریائے فرات کا خشک ہونا

 دریائے فرات کے کناروں سے انسانی تہذیب نے جنم لیا۔ ذراعت، لکھائی، پہیہ اور قانون یہ چار چیزیں یہیں ایجاد ہوئیں۔ شراب، موسیقی اور شاعری نے بھی یہاں سے جنم لیا۔ پہلی بار وقت کو سال، مہینوں اور دن کو چوبیس گھنٹوں میں یہیں تقسیم کیا گیا۔  دریائے فرات کی حالیہ تصاویر خوفناک ہیں۔ وہ تیزی سے خشک ہورہا ہے۔ توراۃ مقدس کے مطابق دریائے فرات کا خشک ہونا انسانوں کی تباہی کی پہلی علامت ہوگی۔ خالق حقیقی انسانوں کا خاتمہ کرنے سے پہلے اس عظیم دریا کو خشک دے گا جہاں سے یہ انسان پھلے پھولے۔  ایک اندازے کے مطابق دریائے فرات آدھا خشک ہوچکا ہے۔ اسکے پانی پر انحصار کرنے والے لوگ بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ قریب کی بہت سی زمینیں بنجر ہوگئی ہیں۔  بائبل میں لکھا ہے کہ " چھٹے فرشتے نے اپنا پیالہ دریائے فرات پر ڈالا، جس سے اسکا پانی خشک ہوگیا اور مشرق سے بادشاہوں کی آمد کا راستہ کھل گیا۔" بائبل کے مطابق انسانوں کا خاتمہ ہونے سے پہلے ایک عظیم جنگ ہوگی اور وہ جنگ شروع ہونے سے پہلے دریائے فرات خشک ہوجائیگا۔ مشرق سے آنے والے یہ بادشاہ اس عظیم جنگ میں حصہ لینگے۔ (خشک ہونے سے مراد یہ بھی ہوتی ہے کہ دریا اپنا بیشت

میمو گیٹ سکینڈل کیا ہے

 مئی 2011ء میں اس وقت کے صدر پاکستان آصف علی زرداری کی جانب سے امریکن ایڈمرل مائکل مولن کے نام ایک خط لکھا گیا جو میمو گیٹ سکینڈل کے نام سے مشہور ہے۔ اس خط میں آصف زرداری نے امریکہ سے پاک فوج اور آئی ایس آئی کے خلاف مدد طلب کی جسکے بدلے امریکہ کو مندرجہ ذیل پیشکشیں کیں۔  1۔۔امریکی سفارشات کی روشنی میں اسامہ بن لادن کو پناہ دینے یا اس سے تعلقات رکھنے والے تمام مشتبہ جرنیلوں کے خلاف کاروائی۔ پاک فوج کی تمام سینیر قیادت بشمول چیف جنرل کیانی اور ڈی جی آئی ایس آئی جنرل پاشا کی فوری معطلی۔  2۔ امریکہ کی پسندیدہ شخصیات پر مشتمل ایک نئے سول دفاعی ادارے کا قیام جو آئی ایس آئی کو کنٹرول کرے۔  3۔ امریکن فورسز کو پاکستان بھر میں کہیں بھی آپریشن کرنے کی اجازت۔ جس میں پاکستان کی سول حکومت ان کی مکمل معاؤنت کرے گی۔  4۔ ایمن اظوہری ، ملا عمر اور سراج الدین حقانی کو فوری طور پر امریکہ کے حوالے کرنے کا وعدہ۔ 5۔ نیا قائم کیا گیا سول دفاعی ادارہ فوری طور پر آئی ایس آئی کے " سیکشن ایس" کو بند کردے گا جو امریکہ کے خلاف افغان جہاد کو کنٹرول کرتا ہے۔ نیز آئی ایس آئی اور افغان طالبان کے درمیان موجود