Skip to main content

Posts

Showing posts with the label پاکستان مخالف پراپیگینڈا

عمران خان ریپٹلین سائیکوپیتھ

نفسیاتی مریض یا پاگل لفظ 'سائیکوپیتھ' کا درست ترجمہ نہیں۔ بلکہ 'سائیکوپیتھ' عام لوگوں کی نسبت ذہنی طور پر زیادہ چاک و چوبند ہوسکتے ہیں۔ ان کو 'ہیومن پریڈیٹرز' بھی کہا جاتا ہے۔ 'ہیومن پریڈیٹرز' یعنی یہ انسانوں کی جان، مال حتی کہ ان کے احساسات اور جذبات کا بھی شکار کرتے ہیں۔  وہ یہ سب یہ کیسے کر لیتے ہیں اور میں نے عنوان میں عمران خان کا نام کیوں لکھا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ 'سائیکوپیتھ' میں دوسرے انسانوں سے الگ کچھ صفات ہوتی ہیں جو ان کو قدرتی شکاری بناتی ہیں۔ انکی یہ صفات دنیا بھر کے ماہرین نے برسوں کی تحقیق اور محنت کے بعد جمع کی ہیں اور حیرت انگیز طور پر وہ تقریباً ساری عمران خان میں پائی جاتی ہیں۔  سائیکوپیتھس کو 'ریپٹلینز' بھی کہا جاتا ہے۔ کیونکہ انکی کچھ عادتیں ریپٹلینزجیسی ہوتی ہیں۔ ریپٹلینز کے بارے میں قرآن اور سائنس نے کچھ آگہی دی ہے اس پر بھی بات کرینگے۔  اگر آپ ایک بار ٹھنڈے دل سے یہ مضمون پڑھ لیں تو شائد آپ عمران خان کی مقبولیت، شخصیت، سوچ اور فیصلوں کو سمجھ لیں۔ بہت سی چیزوں کے بارے میں آپ کی حیرت دور ہوسکتی ہے۔  ریپٹلین سائیک

کراچی میں ارسلان کا قتل

شائد آپ لوگ ابھی تک اپ وہ ویڈیو دیکھ چکے ہوں جس میں چند لوگ ایک شخص سے اس کی بیٹے کی لاش مانگ رہے ہیں اور بدلے میں اس کے مطالبات پورے کروانے کی یقین دہانی کروا رہے ہیں اور وہ شخص مسلسل انکار کر رہا  ہے۔  لاش مانگنے والے وزیرستانی سرخے (پی ٹی ایم) کے کارکن ہیں۔ جو ارسلان محسود کی لاش مانگ رہے ہیں۔ ارسلان محسود پی ٹی ایم راہنما لیاقت محسود کا بیٹا تھا جسے مبینہ طور پر ایک پولیس والے نے قتل کر دیا۔ فائرنگ میں اس کا ساتھی یاسر بھی زخمی ہوا۔  سرخوں کو لاش تو نہ ملی لیکن انہوں نے سوشل میڈیا پر اس کو کیش کرنے کی خوب کوشش کی۔  'ایک اور پشتون کا قتل' 'ریاستی دشتگردی' 'پولیس کا ایک اور انکاؤنٹر' اور 'زما لویہ گناہ داد چہ پختون یم' والی ٹویٹس کیں۔  اس کیس کی تازہ ترین پیش رفت یہ ہے کہ قاتل اور پولیس اہلکار 'توحید' کو 24 گھنٹوں کے اندر اندر گرفتار کر لیا گیا ہے۔ یہ بات جھوٹ ثابت ہوئی کہ ارسلان کو کسی ناکے پر مارا گیا ہے۔ ابتدائی تفتیش کے مطابق پولیس اہلکار نے سادہ لباس میں اپنے ایک ساتھی کے ساتھ ملکر ارسلان کو قتل کیا ہے۔ اس کے لیے اس نے اسلحہ بھی پرائیویٹ ا

بلوچستان یونیورسٹی دھرنا

 بلوچستان یونیورسٹی دھرنا نئے 'مسنگ پرسنز' پرانا تماشا  بلوچ نوجوانوں کو سرخوں نے جس بےرحمی سے استعمال کیا ہے اسکی مثال نہیں ملتی۔ نوعمر اور جذباتی نوجوانوں کو ریاست کے خلاف اکسانا اور پھر ان کو اپنی دہشتگرد تنظیموں میں شامل کرنا۔ جب تک یہ نوجوان لڑتے رہتے ہیں تب تک 'مسنگ پرسنز' اور جب کوئی لڑتے ہوئے مارا جائے تو 'شہید' کا لیبل لگا کر بدلے کا اعلان کرتے ہیں۔  بلوچستان یونیورسٹی کا واقعہ بھی یہی ڈراما لگ رہا ہے۔ 2 نومبر کو فصیح بلوچ اور سہیل بلوچ نامی نوجوان اپنے ہاسٹل سے غائب ہوئے۔ غائب ہونے کے چند دن بعد بی ایس او آزاد نے اچانک دعوی کر دیا کہ ریاستی ایجنسیوں نے اٹھایا ہے اور بلوچستان یونیورسٹی کے گیٹ پر دھرنا دے دیا۔ چند دن بعد رفتہ رفتہ پوری یونیورسٹی بند کر دی۔ اب بولان میڈیکل کالج کے طلباء بھی اس احتجاج میں شامل ہوگئے ہیں۔  بلوچستان حکومت نے دھرنے سے بات چیت کی ہے لیکن تاحال مسئلہ حل نہیں ہوا ہے اور بی ایس او نے احتجاج کا دائرہ بڑھانے کا اعلان کیا ہے۔ وہ بضد ہیں کہ جب تک 'مسنگ پرسنز' واپس نہیں آتے تب تک کوئی بات چیت نہیں ہوگی۔  اس واقعے کے ضمن میں چن

لال مسجد آپریشن کی حقیقت

اسلام آباد میں آپ کسی سرکاری زمین پر بغیر اجازت مسجد بنانی شروع کریں۔ کوئی اعتراض کرے تو اسے کافر قرار دیں۔ مسجد کے ساتھ اپ کی رہائش گاہ اور مدرسہ (مستقل کمائی کا ذریعہ) خودبخود بن جاتا ہے۔    سی ڈی اے کی رپورٹ کے مطابق صرف اسلام اباد میں 194 مساجد (ملحقہ مدارس و رہائشگاہیں) اسی طریقے سے قبضہ کر کے بنائی گئی ہیں۔ جن میں 165 سی ڈی اے سیکٹرز میں ہیں۔ جہاں زمین کی مالیت 30 تا 50 لاکھ روپے مرلہ ہے۔  تنازعے کا پس منظر  مولوی عبدالعزیز کے والد مفتی عبداللہ لال مسجد کے سرکاری مولوی تھے۔ ان کے لیے سی ڈی اے نے محکمہ اوقاف کے نام لال مسجد سے ملحقہ 206 مربع گز زمین الاٹ کی تھی۔ لیکن موصوف زمین خالی دیکھ کر اپنا قبضہ بڑھاتے رہے اور آہستہ آہستہ 9533 مربع گز زمین پر قابض ہوگئے۔ فائر برگیڈ کی زمین بھی دبا لی۔ اپنے اس قبضے پر ایک عالی شان رہائش گاہ اور مدرسہ بنا کر اس کو 'جامعہ حفصہ' کا نام دے دیا۔  1998ء میں مفتی عبداللہ کی ہلاکت کے بعد ان کے ہونہار بیٹوں عبدالعزیز اور عبدالرشید نے قبضے میں مزید اضافہ فرمایا اور خواتین کی لائبریری کے لیے مختص زمین بھی دبا لی۔ انہی دنوں دونوں بھائیوں نے القاعد

میمو گیٹ سکینڈل کیا ہے

 مئی 2011ء میں اس وقت کے صدر پاکستان آصف علی زرداری کی جانب سے امریکن ایڈمرل مائکل مولن کے نام ایک خط لکھا گیا جو میمو گیٹ سکینڈل کے نام سے مشہور ہے۔ اس خط میں آصف زرداری نے امریکہ سے پاک فوج اور آئی ایس آئی کے خلاف مدد طلب کی جسکے بدلے امریکہ کو مندرجہ ذیل پیشکشیں کیں۔  1۔۔امریکی سفارشات کی روشنی میں اسامہ بن لادن کو پناہ دینے یا اس سے تعلقات رکھنے والے تمام مشتبہ جرنیلوں کے خلاف کاروائی۔ پاک فوج کی تمام سینیر قیادت بشمول چیف جنرل کیانی اور ڈی جی آئی ایس آئی جنرل پاشا کی فوری معطلی۔  2۔ امریکہ کی پسندیدہ شخصیات پر مشتمل ایک نئے سول دفاعی ادارے کا قیام جو آئی ایس آئی کو کنٹرول کرے۔  3۔ امریکن فورسز کو پاکستان بھر میں کہیں بھی آپریشن کرنے کی اجازت۔ جس میں پاکستان کی سول حکومت ان کی مکمل معاؤنت کرے گی۔  4۔ ایمن اظوہری ، ملا عمر اور سراج الدین حقانی کو فوری طور پر امریکہ کے حوالے کرنے کا وعدہ۔ 5۔ نیا قائم کیا گیا سول دفاعی ادارہ فوری طور پر آئی ایس آئی کے " سیکشن ایس" کو بند کردے گا جو امریکہ کے خلاف افغان جہاد کو کنٹرول کرتا ہے۔ نیز آئی ایس آئی اور افغان طالبان کے درمیان موجود

کالا باغ ڈیم، فوائد اور اعتراضات (آخری حصہ)

کالاباغ ڈیم نہ بنانے کے نقصانات کا احاطہ کرنا ایک مضمون میں ممکن نہیں۔ البتہ چند موٹے موٹے نقاط گنواتا ہوں۔ 1۔ کالاباغ ڈیم پر جنرل ضیاء کے بعد کام بند کر دیا گیا۔ اصولاً یہ ڈیم 1993ء میں آپریشنل ہوجانا چاہئے تھا۔ یوں 27 سال ضائع کیے گئے۔ کالاباغ ڈیم سے اضافی 50 لاکھ ایکڑ بنجر زمین سیراب ہونی تھی۔ نہری زمین کے پیش نظر فی ایکڑ 3 لاکھ روپے سالانہ پیداوار لگائیں تو اب تک ہم اپنا 40٫000 ارب روپے یا 400 کھرب روپے یا 300 ارب ڈالر کا نقصان صرف پیدوار کی مد میں کروا چکے ہیں۔ 300 ارب ڈالر کتنے ہوتے ہیں؟ پاکستان کا کل بیرونی قرضہ تقریباً 100 ارب ڈالر ہے۔ بس اسی سے اندازہ لگا لیجیے۔ 2۔ صنعتی پیداور کی لاگت کا تعئن دو چیزیں کرتی ہیں۔ پہلی لیبر اور دوسری بجلی۔ پاکستان میں لیبر بہت سستا ہے لیکن بجلی یا تو ناپید ہے یا اتنی مہنگی ہے کہ اس بجلی سے پیدا ہونے والی اشیاء کی لاگت دگنی ہو جاتی ہے۔ اس کی وجہ سے پاکستانی اشیاء بیرون ملک منڈیوں میں دوسرے ممالک کی اشیاء کا مقابلہ نہیں کر پاتیں بلکہ اب تو اپنے ملک کے اندر بھی دوسرے ممالک کی اشیاء سے مقابلہ نہیں کر پا رہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نواز شریف کے آخری  پانچ سا

کالا باغ ڈیم، فوائد اور اعتراضات (حصہ دوم)

اس منصوبہ کے مخالفین نے ڈیم سے حاصل ہونے والے بیش بہا فوائد کی نسبت اس کے ممکنہ نقصانات کو خوب اجاگر کیا نتیجے میں رائے عامہ اس کے خلاف ہوگئی۔ حالت یہ ہے کہ سرخوں کے پراپگینڈا سے متاثر بہت سے پشتونوں کو علم ہی نہیں کہ ڈیم دراصل بننا کہاں پر ہے۔  سندھ  میں تو یہ اعتراض بھی کیا جاتا ہے کہ ” پنجاب پانی سے میں ساری بجلی نکال لے گا جس کے بعد ہمار پاس صرف پھوک رہ جائیگی” ( گنے سے رس نکل جائے تو جو بچتا ہے اس کو پھوک کہتے ہیں 🙂 )  ڈیم پر سنجیدہ نوعیت کے اعتراضات البتہ مندرجہ ذیل ہیں۔ الف ۔۔۔ صوبہ خیبر پختونخوا کے کالا باغ ڈیم پر تین بڑے اعترضات ہیں۔ 1۔ بجلی پیدا کرنے والےٹربائن اور تعمیرات پنجاب میں واقع ہوں گی۔ اس لیے صوبہ پنجاب وفاق سے پیدا ہونے والی بجلی پر رائلٹی کا حقدار تصور ہو گا۔ اس اعتراض کے جواب میں صوبہ پنجاب نے وفاقی رائلٹی سے مکمل طور پر دستبردار ہونے کا اعلان کر لیا۔ 2۔ ضلع نوشہرہ کا بڑا حصہ ڈوبنے کا خطرہ ہے اور کچھ علاقے بنجر ہونے کا خدشہ ہے۔ جنرل ضیاء کے دور میں ڈیم کی اونچائی کم کی گئی جس کے بعد اے این پی کے ولی خان کا اس پر اعتراض ختم ہوگیا تھا۔ اب ذرا غور سے سنیں۔  میانوال

کالا باغ ڈیم، فوائد اور اعتراضات (حصہ اؤل)

ڈیم کی تاریخ   کالاباغ ڈیم پنجاب کی سرزمین پر بننے والا آبی منصوبہ ہے جو سیاسی بدمعاشیہ کی نظر ہوگیا۔ اس ڈیم کے لیے پہلا سروے غالباً برطانوی حکومت نے قیام پاکستان سے قبل 1873ء میں کیا تھا۔ قائداعظم کی اجازت سے فروری 1948ء میں میانوالی کے مقام پر ہائیڈرو پاور پراجیکٹ تعمیر کیا گیا۔ بھارت نے پاکستان کا پانی بند کر دیا پاکستان ورلڈ بینک اس مسئلے کو لے گیا۔ جس کے بعد بھارت اور پاکستان کے درمیان پانی کی تقسیم کا معاہدہ طے پایا۔ ایوب خان نے پانی کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے کالا باغ ڈیم کی تعمیر کو ضروری سمجھا مگر ایوب دور میں دیگر آبی منصوبوں کی تعمیر زور و شور سے جاری تھی اس لیے کالا باغ ڈیم صرف کاغذوں تک محدود رہا۔ کالاباغ کی باری آنے سے پہلے ایوب خان کی حکومت ختم ہوگئی۔  بھٹو کے جمہوری دور میں پہلی بار اس ڈیم کو پاکستان کے لیے مضر قرار دیا گیا اور اس سے جان چھڑانے کی پہلی کوشش کی گئی۔ کالا باغ ڈیم پر صحیح معنوں میں کام جنرل ضیاء کے دور میں شروع ہوا۔ جنرل ضیاء الحق کے دور میں خصوصی طور پر ڈیموں کے ماہر ڈاکٹر کنیڈی کمیٹی بنائی گئی جس نے کالا باغ ڈیم کے حوالے سے رپورٹ تیار کی۔ 1983ء میں ڈاکٹر کن

بابڑہ سانحہ کی حقیقت

پاکستان بننے کے چند دن بعد قائداعظم محمد علی جناح نے باچا خان کے بھائی ڈاکٹر خان کی کانگریسی حکومت برطرف کر دی۔  ڈاکٹر خان وہی بےغیرت ہے جس نے چیلنج کیا تھا کہ اگر پشتونوں نے ہندؤوں کے بجائے مسلمانوں (پاکستان) کے ساتھ رہنے کا فیصلہ کیا تو میں وزرات اعلی سے استعفی دے دونگا۔  پھر جب 99٪ پشتونوں نے پاکستان کو ووٹ دیا تو اس نے استعفی دینے سے انکار کر دیا۔    وزارت اعلی سے محروم ہوا تو باچا خان کے اشارے پر سرخوں نے پورے صوبہ سرحد میں پرتشدد مظاہرے شروع کر دیئے اور سول نافرمانی کا اعلان کیا۔ تب صوبے کا گورنر انگریز سر امبروز فلکس تھا۔ اس کے حکم پر فسادی عناصر کو گرفتار کیا جانے لگا۔  باچا خان اور ڈاکٹر خان کو نئے بننے والے وزیراعلی سرحد خان عبدالقیوم خان نے نظر بند کر دیا۔  اسی اثناء میں سرخوں نے ڈاکٹر خان کو وزارت واپس دلوانے کے لیے چارسدہ تک لانگ مارچ اور وہاں جلسہ کرنے کا اعلان کیا۔ انگریز گورنر نے وہاں دفعہ 144 یا کرفیو لگانے کا حکم دیا۔   پابندی کے باوجود جب لانگ مارچ نوشہرہ سے بابڑہ پہنچا تو ضلعی انتظامیہ اس کو روکنے پہنچی۔ مارچ کو لیڈ کرنے والا عبدالرؤف نامی سرخا آگے بڑھا اور ڈپٹی کشم

بلوچستان پر ایک شریر سرخے کی پوسٹ کا جواب

آج افغانی سرخوں کے گروپس میں ایک پوسٹ دیکھی جس میں بلوچستان کے کسی غریب بچے کی تصویر شیر کر کے لکھا گیا تھا کہ " یہ بچہ 50 سے زائد اقسام کی معدنیات کے صوبے کا مالک ہے، جو دنیا کی 26 فیصد توانائی اور 40 فیصد بجلی کی ضروریات پوری کر سکتا ہے۔ لیکن بچے کی حالت یہ ہے اور صاف پانی تک نہیں وغیرہ وغیرہ" نیچے مزید یہ لکھا تھا کہ "اس حالت پر آواز اٹھاؤ تو غدار" کمنٹس میں بلوچوں کے مایوسی اور غم و غصے بھرے کمنٹس موجود تھے۔ شائد سرخوں کو بی ایل اے کے لیے چند مزید بکرے مل جائیں۔   نہایت ادب کے ساتھ عرض ہے کہ سوائے گیس کے بلوچستان سے کوئی ایک ایسی معدن نہیں نکالی جارہی جس سے ریاست یا باقی صوبے مستفید ہورہے ہوں۔ اگر کوئی ہے تو بتائیں؟؟ حتی کہ بلوچستان سے تیل بھی نہیں نکالا جا رہا اور نہ سونا۔  کوئلہ، کرومائٹ، بیرائیٹ اور ماربل وغیرہ بلوچستان کے لوگ خود نکالتے ہیں یا وہاں پناہ گزین افغانی نکالتے ہیں اور وہی اس سے مستفید ہورہے ہیں۔  لے دے کر ایک گیس رہ جاتی ہے۔ تو جناب عالی بلوچستان پاکستان کی گیس کی کل ضرورت کا صرف 15 فیصد پوری کرتا ہے۔ جس میں سے 7 فیصد بلوچستان خود استعمال کرتا ہے

بلوچستان میں پانی کا مسئلہ

بلوچستان میں سب سے بڑا مسئلہ پانی کا ہے۔ وہاں پانی تقریباً ناپید ہے اور زیر زمین اتنا نیچے ہے کہ اس کو نکالا نہیں جاسکتا۔  بلوچستان میں پانی کا واحد حل ڈیموں اور نہروں کی تعمیر ہے۔   قیام پاکستان سے قبل پورے بلوچستان میں صرف ایک ڈیم تھا۔  پاکستان کے ساتھ الحاق کے بعد ایوب خان کے دور میں 1961ء میں بلوچستان میں ڈیموں کی تعمیر کا آغاز کیا گیا۔ جس کے بعد سے اب تک بلوچستان میں چھوٹے بڑے 29 ڈیم تعمیر کیے جا چکے ہیں۔ زیادہ تر ڈیمز فوجی ادوار میں بنے۔ ان ڈیموں کی تعمیر پر مجموعی طور پر کئی سو ارب روپے ریاست پاکستان نے خرچ کیے اور ان کی بدولت بلوچستان کی ہزاروں سال کی تاریخ میں پہلی بار کئی علاقوں کو سارا سال پانی دستیاب ہونے لگا۔  یہ ڈیمز گوادر، مستونگ، کوئٹہ، قلات، تربت، قلعہ سیف اللہ، زیارت، مکران، ژوب، پشین، ملر اور پسنی میں بنائے گئے ہیں۔ کئی ڈسٹرکٹس میں ایک سے زائد ڈیم بنائے گئے ہیں۔  لیکن بدقسمتی سے بلوچستان میں جو چند ایک دریا ہیں ان میں پانی نہ ہونے کے برابر ہے اور بارشیں بھی بہت کم ہوتی ہیں اس لیے یہ ڈیم ناکافی ثابت ہوئے ہیں۔  تب بلوچستان کو سیراب کرنے کے لیے پنجاب میں ڈیم بنانے کا فی

افغان مہاجرین کے عوض پاکستان کو کتنے پیسے ملتے ہیں؟

اکثر افغانی سرخہ دعوی کرتے ہیں کہ افغان مہاجرین کے عوض پاکستان دنیا سے بہت بڑی رقم وصول کرتا ہے۔ اس حوالے سے چند حقائق آپ کی خدمت میں پیش کرتے ہیں۔   پاکستان کو ایک رجسٹرڈ افغانی کے عوض سالانہ 78 ڈالر یا تقریباً 12000 روپے ملتے ہیں۔ کل 13 لاکھ رجسٹرڈ افغانی ہیں۔ یوں یہ رقم سالانہ تقریباً 15 ارب روپے بنتی ہے۔ یہ رقم حکومت پاکستان کو اقوام متحدہ کا ادارہ یو این ایچ سی آر ادا کرتا ہے۔ (جو افغانی رجسٹرڈ نہیں ہیں بلکہ پاکستان کے جعلی شناختی کارڈ بنا کر رہ رہے ہیں ان کی تعداد 60 لاکھ سے 1 کروڑ تک ہے) یعنی 15ارب روپے سالانہ کے عوض ہم نے کم از کم 1 کروڑ افغانیوں کا بوجھ اٹھا رکھا ہے۔  اور یہ بوجھ ہمیں کتنے میں پڑتا ہے؟ ایک افغانی روزانہ پاکستانی کی معیشت سے اوسطً 500 تا 1000 روپے کھینچتا ہے۔ 500 بھی کریں تو دن کا 5 ارب۔ سال کے کم از کم 1800 ارب روپے۔  اس کے علاوہ افغانی پاکستان میں جو سمگلنگ کرتے ہیں صرف اسی سے پاکستان کے قومی خزانے کو سالانہ 500 ارب روپے کا ٹیکہ لگتا ہے۔  پاکستان میں تمام پراکسی جنگوں اور شورشوں کے پیچھے افغانی ہیں صرف 20 سالوں میں ان کی دہشتگردی سے پاکستان کو 150 ارب ڈالر یا

افغان سفیر کی بیٹی کا ڈرامہ

اس نے کہا فون چھن گیا لیکن اسی سے برآمد ہوا،  پھر کہا فون واپس ملا لیکن اغواکاروں نے ڈیٹا ڈیلیٹ کیا،  اس نے کہا ایک ٹیکسی میں گئی لیکن اس نے 4 ٹیکسیاں بدلیں،  اس نے کہا ٹیکسی میں نکلی لیکن گھر سے پیدل نکلی کھڈا مارکیٹ تک،  راولپنڈی سے ایف سیون پھر دامن کوہ گئی راستے میں گھر آتا تھا وہاں نہیں اتری،   وہاں سے ایف نائن پارک گئی، ایف نائن پارک میں لڑکی نے چار ٹیکسیاں انگیج کیں،  موبائل پر نیٹ تھا لیکن اوبر یا کریم سروس یوز نہیں کی،  جب اس "واردات" کا انکشاف ہوا تھا تبھی یہ سوال اٹھے تھے کہ  واقعہ ہوا 16 کو اور آپ اطلاع دے رہے ہیں 17 کو، جب ڈرائیور، گاڑی اور سیکورٹی کی سہولیات فراہم ہیں پھر ٹیکسی میں کیوں گئی؟ فیملی کو بتائے بغیر کیوں نکلی گھر سے؟  اغواکاروں نے بنا پولیس کی مداخلت کے صرف چند گھنٹوں میں ہی کیسےچھوڑ دیا؟  انکا مقصد کیا تھا؟ وغیرہ وغیرہ ۔۔۔  اس سارے معاملے کے ثبوت اور ویڈیوز حاصل کر لی گئی ہیں۔ شیخ رشید نے انکشاف کیا کہ ڈرامہ ایکسپوز ہونے کے ڈر سے یہ بھاگیں گے اور وہی ہوا اشرف غنی نے فوری طور پر سفیر سمیت تمام سفارتی عملہ واپس بلا لیا۔  ڈرامے کا آغاز کچھ دن پہلے خود